16 اگست 2026 - 23:59
امریکہ نے جنگ چھیڑی، ہم نے قیمت چکائی، خطۂ خلیج فارس کے عرب حکام

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک ٹرمپ سے مایوس ہو چکے ہیں اور ان میں سے کچھ امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عرب اور مغربی حکام کے مطابق، امریکہ کے خلیجی اتحادیوں میں ٹرمپ سے مایوسی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ خلیج فارس کے عرب رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ امن کی ضمانت کے لئے ضروری سفارت کاری کا انتظام نہیں کر سکے گا۔

تین امریکی عہدیداروں اور ایک سابق سفارت کار نے بتایا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کی حکومتیں اب امریکہ کے ساتھ اختلافات پر متحد ہیں۔ بعض ممالک نے امریکی فوجی تنصیبات کی میزبانی کے فائدے پر بحث شروع کر دی ہے۔

خلیج فارس کے ایک عرب عہدیدار نے کہا: "ٹرمپ نے یہ جنگ شروع کی اور ہم اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔"

یوریشیا گروپ کی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی ڈائریکٹر فراس مقصد (Firas Maksad) کا کہنا ہے کہ مایوسی شروع سے ہی تھی۔ خلیجی اتحادیوں کو لگتا ہے کہ انہیں بلاوجہ اس مسئلے میں گھسیٹا گیا جس نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی شروع کردہ جنگ سے جنم لیا، اور اب وہ اس مسئلے کو حل کرنے کی [[ناکام]] کوشش کر رہا ہے!

واشنگٹن میں خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے انسٹیٹیوٹ کی رکن انا جیکبز (Anna Jacobs)) کے مطابق، جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکہ پر اعتماد کم ہؤا ہے۔ اتحادیوں کا خیال ہے کہ امریکہ کا رویہ انہیں محفوظ نہیں بلکہ غیرمحفوظ بنا رہا ہے۔ [یاد رہے کہ عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام نے کویت کو چند ہی گھنٹوں میں آل صباح سے خالی کرایا اور اس کی پوری دولت نکال دی اور اس کے تیل کو تمام کنوؤں کو آگ لگا دی، اور کویت پر قبضے کے لئے صدام کو ایک میزائل یا حتی کہ گولی چلانے کی ضرورت نہيں پڑی یہی صورت حال دوسری عرب ریاستوں کی بھی ہے، اور ہاں! ایران نے کویتی تیل کے کنوؤں کی آگ بجھا دی!]۔

کویت یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر، بدر السیف کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا تضاد خلیجی ممالک کو پریشان کر رہا ہے، اور مفاہمت کی یادداشت ایران کے بیلسٹک میزائلوں سمیت خلیجی ممالک کے اصل خدشات کو دور نہیں کرتی۔

اوباما اور ٹرمپ کے ادوار صدارت میں، کویت اور عراق میں امریکی سفیر، ڈگلس سلی مین (Douglas Silliman) نے کہا کہ اپنے حالیہ دورے میں اس کو خلیج فارس کے ممالک میں صرف "واشنگٹن سے مایوسی" کی آواز سنائی دی ہے۔"

اس سے قبل، بائیڈن انتظامیہ کے وزیرخارجہ سمیت سابق امریکی عہدیداروں نے خبردار کیا تھا کہ جنگ کا خطرناک ترین اثر اتحادیوں کی مایوسی اور خودمختاری کی جانب [ان کی] رغبت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha